ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کرناٹک اسمبلی انتخابات میں نوٹا کا استعمال ہونے کے امکانات پچھلے لوک سبھا انتخابات میں 1.08 فیصد لوگوں نے امیدواروں کو سبق سکھایا تھا

کرناٹک اسمبلی انتخابات میں نوٹا کا استعمال ہونے کے امکانات پچھلے لوک سبھا انتخابات میں 1.08 فیصد لوگوں نے امیدواروں کو سبق سکھایا تھا

Fri, 27 Apr 2018 14:18:15    S.O. News Service

بنگلورو 26 اپریل (ایس او  نیوز) الیکشن کمیشن نے کرناٹک اسمبلی انتخابات میں پہلی مرتبہ ووٹروں کیلئے نوٹا (نن آف دی ایبو) ۔ ’اوپر دئے گئے کسی بھی امیدوار کو میرا انتخاب نہیں ہوگا‘ کہنے کا حق دیا ہے ۔ گزشتہ 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں کرناٹک میں 2.49 لاکھ رائے دہندے ’نوٹا‘ کا استعمال کئے تھے۔ اب 12 مئی کو منعقد ہونے والے اسمبلی انتخابات میں امیدواروں کی پارٹی بدلی ، پیسوں کی طاقت کا مظاہرہ کرنے والوں سے ووٹرس بدظن ہوگئے ہیں ۔ جس کے سبب ان انتخابات میں نوٹا کے استعمال کرنے والے ووٹروں کی تعداد میں مزید اضافہ ہونے کے امکانات ظاہر کئے جارہے ہیں ۔ انتخابی ماہرین کی طرف سے کئے گئے تجزیہ کے مطابق 2014 ء میں لوک سبھا انتخابات کے بعد کرناٹک میں کئی تبدیلیاں آئی ہیں ۔ رائے دہندے سیاسی پارٹیوں کی چالوں سے واقف ہوچکے ہیں جس کے سبب اگلے ماہ منعقد ہونے والے اسمبلی انتخابات میں کم از کم ایک فیصد سے زائد لوگ نوٹا کا استعمال کرنے کا امکان ہے ۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ امیدواروں اور سیاسی پارٹیوں سے عوام بیزار ہوگئی ہے جس کے سبب لوگ ان کے خلاف نوٹا کا استعمال کرسکتے ہیں ۔ باوثوق ذرائع سے ملنے والی اطلاع کے مطابق 2014 کے لوک سبھا انتخابات کے دوران ملک میں جملہ 60 لاکھ ووٹروس یعنی 1.08 فیصد رائے دہندے نوٹا کا استعمال کئے تھے اس کے بعد گزشتہ 5 سالوں میں منعقدہ مختلف ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں جملہ 1.33 کروڑ ووٹرس نوٹا کا استعمال کئے جانے کا انکشاف ہواہے ۔ 2015 کے بعد منعقدہ تمام ریاستوں کے اسمبلی انتخابات اور ضمنی انتخابات میں ایک فیصد سے زائد رائے دہندے نوٹا کا استعمال کئے تھے ، یعنی 2.70 لاکھ ووٹرس نوٹا کا انتخاب کئے ہیں ۔ اسوسی ایشن فار ڈیماکریٹک ریفارمس (اے ڈی آر) گزشتہ ماہ جو تفصیلات جاری کئے ہیں اس کے مطابق نوٹا کی پہچان ہونے کے بعد جو انتخابات منعقد ہوئے ان تمام انتخابات میں نوٹا کے انتخاب میں زبردست اضافہ ہوا ہے ۔ اے ڈی آر کے منیجر پروفیسر تریلوچن شاستری کے مطابق انتخابات میں ووٹرس اگر کسی بھی امیدوار کو پسند نہیں کرتے اور انہیں ووٹ نہیں دینا چاہتے ہیں تو ایسے ووٹروں کیلئے الیکشن کمیشن نے نوٹا کی سہولت فراہم کی ہے ۔ لوک سبھا انتخابات میں بھی کئی لوگوں نے نوٹا کا استعمال کرتے ہوئے امیدواروں کے خلاف ناراضگی ظاہر کی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ووٹوں کی گنتی کے بعد ہی نوٹا کے استعمال ہونے کی تصدیق ہوسکتی ہے ۔ 


Share: